ناسا کے 2024 میں خلاءبازوں کو چاند پر بھیجنے کے منصوبے میں تاخیر کیوں؟

ناسا نے اپنے خلاء بازوں کو واپس چاند پر پھیجنے کا فیصلہ 2025 تک موخر کردیا۔ آخری بار امریکی خلائی ایجنسی نے اپولو مشن کے تحت 1972 میں انسانوں کو چاند پر بھیجا تھا۔

ناسا نے آرٹیمس پروگرام کا منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت ان کا ارادہ اگلے مرد اور پہلی خاتون کو 2024 میں چاند پر بھیجنا تھا۔اس فیصلے کو موخرکرنے کا اعلان تب ہوا جب وفاقی جج نے جیف بیزوس کی کمپنی بلو اوریجنز کے ناسا کےخلاف مقدمے کےخلاف فیصلہ آنےکے بعد ہوا۔بلو اوریجنز نے ناسا پر ایلون مسک کی اسپیس ایکس کو تین ارب ڈالرز کے کونٹریکٹ دینے پر مقدمہ دائر کیاتھا۔2018میں بلو اوریجن ان 10 کمپنیوں میں سے تھی جِسے ناسا نے تحقیق کرنے اور چاند اور مریخ پر جانے کے مشنز کےلئے جدید ٹیکنالوجی اور وسائل اکٹھا کرنے کےلئے چُنا تھا۔2019 میں دونوں اداروں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس سے بلو اوریجن کو ناسا کےتاریخی ٹیسٹ اسٹینڈ کے استعمال کی اجازت مل گئی تھی۔2.9 ارب ڈالرز کا وہ معاہدہ جس کی وجہ سے بلو اوریجن نے ناسا کےخلاف قانونی کارروائی کی، جسے اسپیس ایکس کو دے دیا گیا، کے تحت خلاء بازوں کےلئے چاند گاڑی بنانی تھی۔دائر مقدمے میں بلو اوریجن کا کہنا تھا کہ خلائی ادارہ اپنی پیشکشوں کے تخمینے میں غیر قانونی اور غیر موزوں تھا۔ناسا ایڈمنسٹریٹر بِل نیلسن کا کہنا تھا کہ چاند پر جانے کے  معاملے میں بڑے جیلنجز میں مقدمے کی وجہ ہونے والی سات ماہ کی تاخیر، کانگریس کی جاب سے مناسب فنڈز کا مختص نہ کیا جانا، کووِڈ 19 وباء ہیں۔نیلسن کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں 2024 میں پروگرام لانچنگ میں تاخیر کی ایک وجہ پروگرام کا تکنیکی اعتبار سے قابلِ عمل نہ ہونا بھی تھی۔انہوں نے مزید کہا ناسا مستقبل میں جاند پر اترنے کے کم از کم 10 منصوبوں پر کام کررہی ہے اور ایجنسی کو اس کےلیے فنڈز میں واضح اضافے کی ضرورت ہے۔ Sq. Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published.

three × one =

Back to top button