نظامِ شمسی سے باہر بھانپ اڑاتے سیارے

ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی سے باہر دو چھوٹے نیپچون سیاروں کو دریافت کیا ہے جن میں سے ان کا ایٹماسفیئر بالکل اس طرح خارج ہو رہا ہے جس طرح ابلتے پانی کے برتن سے بھانپ نکلتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیارے ممکنہ طور پر ’سُپر ارتھ‘ میں بدل رہے ہیں کیوں کہ قریبی ستاروں سے نکلتی شعائیں ان کے پھولے ہوئے ایٹماسفیئر کو ختم کر رہی ہیں اور گرم گیسز کو نکال رہی ہیں۔منی-نیپچونز کا نام پانے والے یہ سیارے، جن کی بڑی، چٹانی بنیادیں گیسز کی موٹی تہہ سے ڈھکی ہوئی ہیں، نظامِ شمسی کے آٹھویں سیارے یعنی نیپچون سے چھوٹے لیکن بھاری ہیں۔یہ نظام شمسی کے باہر دیکھی جانے والی دو عام اقسام میں سے ایک سے تعلق رکھتے ہیں جو چھوٹے اور چٹانی ہوتے ہیں اور اپنے مرکزی ستارے کے قریب گردش کر رہے ہوتے ہیں۔دوسری قسم super-Earths کی ہوتی ہے جن کا سائز ہماری زمین سے 1.75 گُنا بڑا ہوسکتا ہے۔ جبکہ منی-نیپچون عین ممکن ہے، زمین کے سائز سے دو اور چار گُنا بڑے ہوں۔ان اقسام کے سیارے ہمارے نظامِ شمسی میں نہیں ملے ہیں۔کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں کی جانے والی تازہ ترین تحقیق میں منی-نیپچونز کے متعلق انکشاف کیا گیا کہ یہ سیارے بالترتیب 103 اور 73 نوری سال کے فاصلے پر ہیں۔اسٹار سسٹم TOI560 میں موجود ان دو منی-نیپچون کا مطالعہ کرنے کے لیے ماہرینِ فلکیات نے ہوائی میں موجود W. M. Keck مشاہدہ گاہ کا استعمال کیا۔ اور HD 63433 میں گردش کرتے ایک اور جوڑے کو ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ سے دیکھا گیا۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published.

2 × four =

Back to top button