نظام شمسی کے سب سے بڑے چاند پر پُراسرار آوازیں ریکارڈ

 خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا نے سیارہ مشتری کے ساتویں اور ہمارے نظام شمسی کے سب سے بڑے چاند پر پُراسرار آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیباریٹری کے مطابق رواں سال 7 جون کو 50 سیکنڈ پر مشتمل یہ صوتی ڈیٹا اس وقت ریکارڈ کیا گیا جب گلیلیو مشن پر موجود خلائی جہاز جونو سیارہ مشتری کے اس سب سے بڑے چاند گانیمید کے قریب پرواز کر رہا تھا۔جونو مشتری کی کھوج کے لیے ناسا کی جانب سے بھیجا گیا 34 واں مشن ہے۔ شمسی توانائی سے گردش کرنے والا یہ خلائی جہاز اس پر اسرار آواز کو ریکارڈ کرتے وقت گانیمید کی سطح سے 645 میل (1038 کلومیٹر ) دوری پر 41 ہزار 600 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کر رہا تھا۔یہ پُر اسرار آواز بیپس (گاڑی کے ہارن جیسی آواز) اور بلوپس ( کسی برقی آلے سے خارج ہونے والی لو پچ آواز) پر مختلف فریکوئنسی پر مشتمل ہے۔ یاد رہے کہ گانیمید ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا اور واحد چاند ہے جس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے۔ خلائی جہاز جونو کے پرنسپل انویسٹیگیٹر اسکاٹ بولٹن کا اس بارے میں کہنا ہےکہ ’ اگر اس آواز کو دھیان سے سنا جائے تو ریکارڈنگ کے وسط میں آپ کو اچانک بلند فریکوئنسی سنائی دے گی جو کہ گانیمید کے مقناطیسی کرہ ( زمین یا کسی فلکی جسم کے گرد ایسی فضا جس میں مقناطیسی میدان ہو اسے مقنا طیسی کرہ کہتے ہیں) میں کسی مختلف ریجن کے داخل ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔یہ صوتی ڈیٹا جونو کے ویو انسٹرومنٹس نے جمع کیا ہے جو مشتری کے بڑے مقناطیسی میدان میں برقی اور مقنا طیسی لہریں پیدا کرتا ہے۔گانیمید ( نظام شمسی کے سب سے بڑے چاند) کو کب دریافت کیا گیا۔گانیمید سیارہ مشتری کا ساتواں چاند ہے جو جسامت کے لحاظ سے ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا چاند ہے۔ 5 ہزار 262 کلومیٹر قطر کا حامل گانیمید جسا مت میں سیارہ عطارد اور پلوٹو دونوں سے بڑا ہے۔اسے مشہور ماہر فلکیات  اور طبیعات گیلیلیو نے 11 جنوری 1610  میں دریافت کیا تھا۔ یہ اپنے مدار کے گرد ایک چکر 7 دن میں مکمل کرتا ہے۔ناسا کے مطابق اس کی سطح پر پائےجانے والے اجزاء میں لوہے کی مقدار بہت زیادہ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی سطح سے 200 کلومیٹر نیچے برف کے تہوں میں مد فون نمکین پانی کا سمندر بھی ہے۔گانیمید کی ہوا میں آکسیجن کی معمولی مقدار بھی پائی جاتی ہے جس میں عام آکسیجن (O2) کے علاوہ اوزون(O3) بھی شامل ہے۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button