نوجوت سنگھ سدھو کو ایک سال کی سزائے قید سنا دی گئی

بھارتی سپریم کورٹ نے تقریبا 30 سالہ ایک پرانے کیس پر نظر ثانی کرتے ہوئے سابق کرکٹر اور کانگریس رہنما نوجوت سنگھ سدھو کو  ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔

سدھو پر الزام تھا کہ انہوں نے غصے میں آ کر گرنام سنگھ نامی ایک شخص کو مارا پیٹا تھا، جس کے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا۔ ستائیس دسمبر سن 1988 کو جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا، تو اس وقت سدھو بھارتی قومی کرکٹ ٹیم کے ایک اہم رکن تھے۔

اگرچہ یہ واقعہ اسّی کی دہائی میں رونما ہوا تھا لیکن طویل عدالتی کارروائی کے بعد سن 1999 میں ان پر جرم ثابت ہوا تھا۔

اٹھاون سالہ سدھو نے اس عدالتی فیصلے کے بعد اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

گرنام سنگھ کے لواحقین کی طرف سے عدالت پر رجوع کرنے پر ہریانہ پنجاب کی ایک عدالت نے سدھو کو تین برس کی سزائے قید سنائی تھی تاہم سدھو کی طرف سے اپیل دائر کرنے پر سپریم کورٹ نے اس سزا میں کمی کر دی۔

سپریم کورٹ کا مؤقف تھا کہ سدھو نے مار پیٹ کے دوران کسی ہتھیار کا استعمال نہیں کیا تھا اور یہ ایک غیر ارادی قتل تھا۔ اس لیے اس سزا کو ایک ہزار بھارتی روپے کے جرمانے میں بدل دیا جائے۔

اس پیش رفت پر ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین نے عدالت سے سخت سزا کی اپیل کی تھی۔

سدھو کا مؤقف تھا کہ ایسے شواہد نہیں کہ اس شخص کی ہلاکت مار پیٹ کی وجہ سے ہی ہوئی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس شخص کی موت کی کوئی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

سدھو نے اس کے گھر والوں پر بدنیتی کے الزامات بھی عائد کیے تھے کہ وہ پیسوں کی لالچ میں آ کر اس کیس کو طول دینے کی کوشش میں ہیں۔

اسّی کی ہائی میں نوجوت سنگھ سدھو بھارتی قومی ٹیم کے ایک اہم رکن تھے۔ اوپنر بلے باز سدھو نے اکاون ٹیسٹ میچوں میں 3202 رنز بنائے تھے۔

سدھو نے کرکٹ کو خیر باد کہتے ہوئے سیاست میں قدم رکھا تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو جوائن کر لیا تھا۔ تاہم بعدازاں نے اپنی سیاسی ہمدردیاں بدلتے ہوئے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

ع ب، ع ا (خبر رساں ادارے)

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

one × 4 =

Back to top button