وزیر خزانہ کا پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنیکا اعلان

حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط مان لی، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ مفتاح اسماعیل نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف قرض کا حجم 6 ارب ڈالر سے بڑھا کر 8 ارب ڈالر کرنے پر اتفاق ہوگیا، تاہم حتمی فیصلہ آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان کے بعد ہوگا۔ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں قرض پروگرام 6 ارب ڈالر سے بڑھا کر 8 ارب ڈالر کئے جانے پر اتفاق ہوگیا، جس کی تصدیق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی کردی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف قرض پروگرام کی مدت میں بھی 9 سے 12 ماہ تک اضافہ متوقع ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ آئی ایم ایف وفد کے دورہ پاکستان کے بعد ہوگا۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل عالمی مالیاتی اداروں کو منانے کے مشن پر امریکا میں ہیں، آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی کیلئے مذاکرات میں پیشرفت ہوگئی، فریقین نے منگل 26 اپریل سے تکنیکی مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کرلیا۔ آئی ایم ایف کا مشن آئندہ ماہ پاکستان آئے گا، پاکستان نے پیٹرول اور بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا وعدہ کرلیا۔عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہونیوالی مخلوط حکومت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل ان دنوں امریکا کے دورے پر ہیں جہاں وہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ قرض بحالی پروگرام اور تعاون کیلئے بات چیت میں مصروف ہیں۔آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی بحالی کیلئے واشنگٹن میں ابتدائی مذاکرات مکمل ہوگئے، فریقین میں تکنیکی مذاکرات منگل سے ہوں گے، آئی ایم ایف کا مشن تکنیکی مذاکرات کے بعد پاکستان کا دورہ کرے گا، مذاکرات آگے بڑھانے کا فیصلہ کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ہوا۔وزارت خزانہ حکام کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات کے چار دور ہوئے، پاکستان نے آئی ایم ایف کو فیول سبسڈیز مرحلہ وار ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی۔حکومت نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری اور آئی ایم ایف کے معاشی اصلاحات کے روڈمیپ پر عملدرآمد پر بھی اتفاق کیا۔ آئی ایم ایف نے غریب  طبقے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈیز والے انکم سپورٹ پروگرام اور صحت کارڈ جاری رکھنے پر اعتراض نہیں کیا۔تازہ اطلاعات کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے نائب صدر اور ایم ڈی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور عالمی بینک کے تعاون پر گفتگو ہوئی۔عالمی بینک کے حکام نے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی۔ ملاقاتوں کے دوران وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر بھی وزیر خزانہ کے ہمراہ موجود تھے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف کی ڈپٹی ایم سے بھی ملے اور قرض پروگرام پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پاکستانی امریکن آئی ٹی تاجروں اور  سرمایہ کاروں سے ورچوئل میٹنگ کرکے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں وفد نے آئی ایم ایف حکام سے متعدد ملاقاتیں کیں، انہوں نے پاکستانی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کیا۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو مالی ڈسپلن لانے کیلئے کوششوں سے آگاہ کیا گیا، آئی ایم ایف نے پاکستانی وفد سے تعاون جاری رکھنے کا اظہار کیا۔موجودہ حکومت کیلئے آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینا سب سے بڑا چیلنج ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے سابقہ حکومت کی جانب سے پیٹرول، ڈیزل اور بجلی پر دی گئی سبسڈی کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

7 + 18 =

Back to top button