وہ بھارتی شہر جہاں لوگ ہر لمحہ ’زہر پینے‘ پر مجبور ہیں

بھارت میں بھیواڑی کو ماحولیاتی سطح پر دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہربتایا تو گیا ہے لیکن بیشتر لوگ اس کے نقصانات سے لاعلم ہیں۔ بھارت کے قومی دارالحکومت دہلی سے صرف 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بھیواڑی میں ایک چوراہے پر ٹریفک پولس کے جوان سریندر سنگھ دھوئیں اور دھول کے بادلوں کو ہاتھوں سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہیں اور اپنے سینے سے چپکے ہوئے ایک چھوٹے سے ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اڑتالیس سالہ سریندر سنگھ بتاتے ہیں، ”یہ ڈبہ ہی مجھے زندہ رکھے ہوئے ہے۔‘‘ یہ ڈبہ دراصل ‘کارڈیئک ڈیفیبریلیٹر‘ نامی آلہ ہے جو دل کی دھڑکن کا خیال رکھتا ہے اور دھڑکن کی رفتار خطرناک حد تک کم ہو جائے، تو بجلی کا ایک ہلکا سا جھٹکا دیتا ہے تاکہ دل معمول کے مطابق دھڑکتا رہے۔

سریندر سنگھ بھیواڑی کی فضا میں دھوئیں اور دھول کے بادلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”یہ ہے اس پاگل پن کی قیمت، جو ہمیں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔‘‘ صنعتی مرکز کے طور پر قائم کیا گیا شہر بھیواڑی سوئٹزرلینڈ کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی IQAir کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کردہ دنیا کے 6475 آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

مہلک بیماریوں کا گھر

بھیواڑی میں ہوا کے صورت حال کتنی خراب اور سنگین ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تسلیم کردہ چھوٹے ذرات (جنہیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے) کی زیادہ سے زیادہ سطح سے بھی 20 گنا زیادہ ہے۔ پی ایم 2.5 ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں اور نظام تنفس میں پہنچ جاتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسی آلودہ فضا میں زیادہ دیر تک سانس لینے سے دمے اور پھیپھڑوں کے سرطان جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ خون میں آکسیجن کی سطح بھی خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے اور دل کی دھڑکن کی رفتار بھی بے ترتیب ہو سکتی ہے، جس سے سینے میں درد رہتا ہے اور محسوس ہوتا ہے جیسے سینہ جکرا گیا ہو۔

شاید یہی وجہ ہے کہ سریندر سنگھ بیمار رہنے لگے حالانکہ وہ نہ تو تمباکو نوشی کرتے ہیں اور نہ ہی شراب پیتے ہیں بلکہ ہمیشہ غذائیت سے بھرپور خوراک کھاتے ہیں۔

سریندر سنگھ کا خیال ہے کہ شاید 27 برس تک زہریلی ہوا میں سانس لینے کا ہی نتیجہ تھا کہ سن 2018 میں انہیں شدید کھانسی اور سینے میں درد کی شکایت ہوئی۔ اس کے بعد وہ زیادہ تر دفتر میں ہی کام کرتے ہیں۔ ان کے رفقاء کے لیے یہ حسد جیسی کیفیت تھی جو ہر روز 12 گھنٹے کی شفٹ کے بعد سرخ جلتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ کھانستے ہوئے گھر لوٹتے ہیں۔

تاہم ہر کوئی سریندر سنگھ کی فکر مندی سے متفق نہیں ہے۔

بھیواڑی میں گلی محلوں کے چوراہوں پر خوانچہ فروش، عمارتوں کی تعمیر کرنے والے مزدور، صفائی کرنے والے ملازمین، سکیورٹی گارڈ اور رکشہ ڈرائیوروں جیسے ہزاروں لوگ روزانہ اسی ہوا میں سانس لے رہے ہیں۔ ان میں سے بعض کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا آلودہ ہوا میں سانس لینے سے انہیں کوئی پریشانی ہو گی یا ان کی صحت پر کوئی برا اثر پڑے گا۔

بہت سے لوگوں کو اپنے جسم کے مدافعتی نظام پر بھروسہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی بیماری ہو گی ہی نہیں۔ ایک ڈمپر چلانے والے روہیت یادو کا کہنا تھا، ”زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا، مر ہی تو جاوں گا؟ اگر یہاں کام نہیں کروں گا تب بھی مروں گا۔ غریبوں کے لیے آلودگی کوئی مسئلہ نہیں ہے سب سے بڑا مسئلہ پیٹ بھرنے کا ہے۔‘‘

کھیتوں میں فصلوں کی باقیات کو جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب ہیں

’سست رفتاری سے اثر کرنے والا زہر‘

سوئٹرزلینڈ کی کمپنی آئی کیو ایئر کے مطابق دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ 100شہروں میں سے  63 بھارت میں ہیں۔

بھیواڑ ی سے صرف ڈھائی گھنٹے کی دوری پر واقع بھارتی دارالحکومت دہلی بھی ان میں شامل ہے، جو مسلسل چار برس تک سب سے آلودہ شہر رہا ہے۔ اس صورت حال میں اب بھی کچھ زیادہ بہتری نہیں آئی۔ جگہ جگہ ہونے والی تعمیرات، سڑکوں کی تعمیر کے دوران جلتے ہوئے کولتار، گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں اور ہمسایہ یونین ریاستوں کے کسانوں کی طرف سے کھیتوں میں فصلوں کی باقیات کو جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں نے دہلی کے ہر شہری کو متاثر کیا ہے۔

امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی کے انرجی پالیسی انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے تقریباً 40 فیصد بھارتیوں کی اوسط عمر میں نو سال تک کی کمی ہو رہی ہے۔

دہلی میں واقع سینٹر فار انرجی اینڈ کلین ایئرسے وابستہ تجزیہ کار سنیل داہیا کے مطابق، ”یہ سست رفتاری سے اثر کرنے والا زہر ہے، جو بتدریج آپ کے جسم کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘

اس ‘سلو پوائزن‘ کے بارے میں بھیواڑی میں رہنے والے لوگوں میں لاعلمی اور بیداری کی کمی ہی کا نتیجہ ہے کہ وہ ماسک پہننے جیسے آسان طریقے بھی نہیں اپناتے۔ تاہم داہیا سمجھتے ہیں کہ لوگوں میں بیداری پیدا نہ کر پانا حکومت کی ناکامی ہے حالانکہ حکومت ‘صاف ہوا اسکیم‘ جیسے پروگرام بھی چلا رہی ہے۔

بھارتی وزارت ماحولیات نے اس بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اقتصادی نقصانات

ایک غیر سرکاری تنظیم کلین ایئر فنڈ کی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے بھارت کو سالانہ 95 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، جو کہ اس کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً تین فیصد کے برابر بنتا ہے۔

مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اس صورت حال پر کافی فکر مند ہیں کیونکہ فضائی آلودگی کی وجہ سے مزدوروں کی پیداواری صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے اور بیماریوں کے باعث ان کا علاج معالجے پر خرچہ بھی بڑھ جاتا ہے، بالخصوص کھلی فضا میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے تو خطرات بہت زیادہ ہیں۔

پیپلز ٹریننگ اینڈ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر جگدیش پٹیل کہتے ہیں، ”یہ مزدور اپنے گھروں میں کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟ روزی روٹی ہی تو ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔‘‘

ج ا / م م (روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 02:02 بھارتی شہر پونے کا ماحول دوست طرز تعمیر

 

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

fifteen + 9 =

Back to top button