پاکستانی ہیکرزنےفرضی خواتین کی پروفائلزبناکرافغانیوں کوبےوقوف بنایا

برطانوی ایجنسی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال اپریل سے اگست کے دوران پاکستانی ہیکرز نے اشرف غنی حکومت میں شامل اراکین کی “ہنی ٹریپ” کے ذریعے جاسوسی کی تھی۔برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز نے فیس بک کے حوالے سے رپورٹ شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سے ہیکرز نے سابق افغان حکومت سے منسلک افراد کو جعلی موبائل ایپس اور ویب سائٹس سے جھانسہ دیکر نشانہ بنایا۔ ہدف بنائے جانے والوں میں اشرف غنی حکومت کے اراکین، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے منسلک افراد شامل تھے۔سائبر خطروں سے متعلق تحقیقات کرنے والے فیس بک کے ذیلی ادارے کا کہنا ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے دوران پاکستان سے ہیکرز نے گزشتہ حکومت سے تعلق رکھنے والے افغان شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے فیس بک کا سہارا لیا تھا اور اپنے اہداف کے اکاؤنٹس میں ردو بدل کیا۔فیس بک کے مطابق سیکیورٹی انڈسٹری میں “سائیڈ کاپی” کے نام سے معروف گروپ اس سلسلے میں ملوث پایا گیا ہے۔ اس گروپ نے اپنے اہداف کیساتھ مال ویئر ویب سائٹس کے لنکس شیئر کیے جس سے ان لوگوں کی الیکٹرونک ڈیوائسز کی ایکسز ملی اور ان لوگوں کی نگرانی کی گئی۔ ہدف بنائے جانے والوں میں حساس عہدوں پر تعینات افراد بھی شامل ہیں۔

گروپ کیسے کارروائی کرتارپورٹ میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے اپنے مطلوبہ اہداف حاصل بھی کیے یا نہیں اور ان کی تعداد کتنی تھی؟۔ بعد ازاں اگست میں مذکورہ ویب سائٹ “سائیڈ کاپی” کو ہٹا دیا گیا۔ یہ گروپ اپنی کارروائی کے دوران اہداف کو جھانسہ دے کر مشکوک لنکس پر کلک کرنے یا جعلی چیٹ ایپس کو ڈاؤن لوڈ کروانے کیلئے “ہنی ٹریپ یا یوں کہیں دل لبھانے والی نوجوان خواتین کی فرضی پروفائلز بناتا اور ان کے ذریعے لوگوں کی حساس معلومات، ان کی فیس بک پروفائل تک رسائی اور پاس ورڈز حاصل کرتا۔مذکورہ ہیکرز کی کمپنی مطلوبہ معلومات ملنے پر اہداف کی پروفائلز میں اپنی مرضی سے تبدیلی کرتی اور ان کی چیٹنگ کو بھی مانیٹر کرتی۔فیس بک کے سائبر جاسوسی کی تحقیقات کے ادارے کے سربراہ نے بتایا کہ متعلقہ خطرات سے متعلق کچھ بھی کہنا محض قیاس آرائی ہوگی، ہم نہیں جانتے کہ کس پر حملہ ہوا یا اس کا حتمی نتیجہ کیا نکلا۔ تاہم سائبر حملوں کے واضح ثبوت موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہیکنگ مہم میں اپریل سے اگست کے عرصے میں تیزی آئی لیکن کمپنی نے افغانستان میں اپنے ملازمین کے حفاظتی خطرات اور نیٹ ورک کی مزید تحقیقات کرنے کی ضرورت کی وجہ سے پہلے اسے بے نقاب نہیں کیا۔ اس سلسلے میں فیس بک کی جانب سے امریکی محکہ خارجہ کے ساتھ بھی معلومات شیئر کی گئی تھیں۔فیس بک کا کہنا ہے کہ افغانستان کے کیسز ظاہر کرتے ہیں کہ سائبر جاسوسی گروپوں نے تنازعات کے دوران غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھایا جب لوگ ہیرا پھیری کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں اور ایسے جھانسوں میں باآسانی پھنس سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

five × three =

Back to top button