پاکستان میں وزیروں اور سرکاری افسران کو کتنا پیٹرول مفت ملتا ہے؟

حکومت پاکستان نے جمعرات کی شب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر 30 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت کم از کم 209 روپے 86 پیسے ہو گئی ہے جب کہ ڈیزل کی نئی قیمت 204 روپے 15 پیسے ہو گئی ہے۔ اس اضافے کے بعد نہ صرف عوام کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے بلکہ اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اس کےخلاف احتجاج کی کال دی ہے جب کہ ان کے ترجمان فواد چوہدری نے وزرا، ججز اور اعلیٰ فوجی و سول افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے قیمتیں معمول پر آنے تک اپنے پیٹرول الاؤنسز معطل کر دیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزرا اور سرکاری افسران کے پیٹرول کی مد میں کتنے اخراجات کیے جاتے ہیں اور کس اعلیٰ شخصیت کو ریاست کی طرف سے کتنا پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے۔ سینیئر افسران کے لیے 65000 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کا پیٹرولسابق وفاقی سیکریٹری رؤف چوہدری کے مطابق وزیراعظم اور وزرا کے سفر کے لیے ان کو فراہم کیے جانے والے گاڑیوں کے ایندھن (پیٹرول اور ڈیزل) کی کوئی مقدار مختص نہیں ہے اور وہ لامحدود پیٹرول استعمال کر سکتے ہیں۔اسی طرح اراکین اسمبلی کو سرکاری مصروفیات کے لیے آمد و رفت کے تمام اخراجات حکومت کی طرف سے فراہم کیے جاتے ہیں جب کہ سول بیوروکریسی کے سینیئر افسران کو ایک مونیٹائزیشن پالیسی کے تحت گاڑی کے ماہانہ اخراجات اور ایندھن کی مد میں 65000 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ادائیگی کی جاتی ہے جو کہ ان کے عہدے کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ تاہم یہ پالیسی پولیس اور فوج کے افسران پر لاگو نہیں ہوتی اور نہ ہی حکومت کے ماتحت آزاد اداروں پر جو اپنے افسران اور سربراہان کو اپنے بجٹ کے لحاظ سے ایندھن کے اخراجات مہیا کرتے ہیں۔  رؤف چوہدری نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’چونکہ پولیس اور فوجی افسران کے ایندھن کے اخراجات ان کی فیلڈ سے متعلقہ نقل و حرکت پر مشتمل ہوتے ہیں، اس لیے یہ مختلف سکیورٹی اور آپریشنل ڈیوٹیوں کی مد میں پورے کیے جاتے ہیں۔‘  معیشت پر تحقیق اور سفارشات مرتب کرنے والے حکومت پاکستان کے ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) جس نے سرکاری افسران کے مشاہرے اور مراعات پر ایک مفصل رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ اس کے سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر ادریس خواجہ کے مطابق سول بیوروکریسی کے افسران کو 20 ویں گریڈ سے 65 ہزار روپے تک ایندھن اور گاڑی کی مرمت کے اخراجات کی مد ادا کیے جاتے ہیں۔  ’یہ افسر ضروری نہیں کہ سیکریٹریٹ کا ہو بلکہ 20 گریڈ کا کوئی استاد بھی ہو سکتا ہے۔ جس کا یہ الاؤنس گریڈ کے اضافے کے ساتھ بڑھتا رہے گا اور گریڈ 22 میں وہ اس الاؤنس کے تحت ایک لاکھ روپے کا حق دار ہو گا۔‘ ڈاکٹر ادریس خواجہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ حکومت وزرا اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کے ایندھن کے خرچ پر نظرثانی کر کے ایک مناسب مقدار میں بچت کر سکتی ہے۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اس اضافے کے بعد عوام کا شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اگر مفت میں فراہم کیے جانے والے ایندھن کو صرف حکومتی عہدیداروں کے گھر سے دفتر تک آنے تک محدود کر دیا جائے اور ان کے دوسرے غیرضروری دوروں جیسے کہ سیمینارز میں شرکت، تقریب میں مہمان خصوصی بننے کے لیے جانا، یونیورسٹی کانووکیشن وغیرہ میں شرکت کو بند کر دیا جائے تو اس سے بھی کافی بچت ہو جائے گی۔ 

’وزیراعظم اور وزرا کے ساتھ جانے والے بڑے بڑے کاروان بھی محدود کیے جا سکتے ہیں، وہ درجنوں گاڑیوں کی جگہ ایک یا دو گاڑیاں بھی اپنے قافلے میں رکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح سکیورٹی کے لیے تین چار الگ گاڑیوں کی جگہ ایک گاڑی سے کام چلایا جا سکتا ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کو وزیر کی گاڑی میں سفر کرنا چاہیے کیونکہ ان کا بنیادی مقصد ان کے قریب رہ کر حفاظت کرنا ہوتا ہے۔‘ ڈاکٹر ادریس خواجہ کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں اور وزارتوں میں زیادہ ایندھن استعمال ہونے کی بڑی وجہ ان کے زیراستعمال گاڑیوں کی نوعیت بھی ہے۔ ’یہ لوگ 2600 سی سی والی پراڈو اور ویگو گاڑیاں استعمال کرتے ہیں جو بہت زیادہ ایندھن لیتی ہیں، اس کی جگہ وہ چھوٹی کاریں جیسے کہ کرولا وغیرہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔‘ ’اگر سکیورٹی اور پروٹوکول کے قافلے ہی کم کر دیے جائیں تو پیٹرول کے سرکاری خرچ کا ایک بڑا حصہ بچ جائے گا۔‘کچھ عرصہ پہلے کابینہ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پچھلی حکومت کے تین برسوں میں وزرا اور مشیران کی گاڑیوں کے ایندھن پر چار کروڑ 68 لاکھ روپے کے اخراجات آئے۔ جبکہ ان گاڑیوں کی مرمت پر تین کروڑ 88 لاکھ روپے خرچ کیے گیے۔ 

کابینہ ڈویژن کے مطابق پچھلی حکومت کے تین برسوں میں وزرا اور مشیران کی گاڑیوں کے ایندھن پر چار کروڑ 68 لاکھ روپے کے اخراجات آئے (فائل فوٹو: ٹوئٹر،ماجد آغا)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے جاری کیے گیے اعداد و شمار کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی سکیورٹی پر چار ارب 31 کروڑ سے زائد، آصف زرداری کی سکیورٹی پر 316 کروڑ 41 لاکھ 18 ہزار روپے سے زائد، شہباز شریف پر 872 کروڑ 79 لاکھ 59 ہزار روپے جب کہ یوسف رضا گیلانی کے لیے 24 کروڑ سے زائد خرچ کیے گئے۔ 

شاہد خاقان عباسی نے اپنے دور حکومت میں 35 کروڑ، راجہ پرویز اشرف نے بطور وزیراعظم 32 کروڑ اور سابق صدر ممنون حسین نے 30 کروڑ روپے سرکاری خزانے سے سکیورٹی اور پروٹوکول خرچ کیے۔ 

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

seventeen − 6 =

Back to top button