پنجاب اسمبلی کےڈپٹی اسپیکرکواختیارات واپس دینےکا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

مسلم لیگ ق کی جانب سے پنجاب اسمبلی کےڈپٹی اسپیکرکواختیارات واپس دینے کا اقدام لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ق لیگ کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈپٹی اسپیکرمتنازعہ ہوکر پارٹی بن چکے ہیں اورپاکستان مسلم لیگ (ن) کو سپورٹ کررہے ہیں۔موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکرکی زیرصدارت الیکشن صاف وشفاف نہیں ہوسکتا اورعدالت نے فیصلے میں موجود خامیوں سے متعلق ذکر ہی نہیں کیا ہے۔عدالت سے ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی اور کہا گیا کہ اجلاس کی صدارت کے لیے اسمبلی رولز کے مطابق اجلاس منعقد کروانے کا حکم دیا جائے۔واضح رہے کہ 13 اپریل کو لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی درخواست نمٹاتے ہوئے انتخاب 16اپریل کو کرانے کا حکم دےدیا ہے۔بدھ کی شام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے محفوظ فیصلہ سنایا۔عدالت نے حمزہ شہباز کی جلد اليکشن کروانے کی درخواست مسترد کردیا۔فیصلہ میں کہا گیا کہ ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات واپس لینے کا اقدام کالعدم قراردیا جاتا ہے، ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات واپس لینا آرٹیکل53کے کلاز3سے متصادم ہے، سیکرٹری اسمبلی15اپریل تک اسمبلی کی مرمت کا کام مکمل کریں گے اوریقینی بنائیں گے کہ اسمبلی16اپریل کو اجلاس کے لیے دستیاب ہو۔عدالت نے تمام فريقين کو فيصلے پر عمل درآمد کرانے کا حکم ديا ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16اپریل کو طلب کیا گیا ہے، عدالت نے ڈپٹی اسپيکر کے اختيارات بحال کرتے ہوئے 16 اپريل کو ووٹنگ کرانے کا حکم دیدیا۔عدالت نے حکم دیا کہ تمام افراد آئین کی بالادستی کیلئےغیرجانبداری کا مظاہرہ کریںگے، اسمبلی سیشن کی تاریخ پہلے ہی آچکی ہے درخواست گزار کی تاریخ تبدیل کرکے فوری انتخاب کی درخواست مستردکی جاتی ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

five × one =

Back to top button