پیر تک تحریک عدم اعتماد پیش نہ ہوئی تو دیکھتے ہیں او آئی سی اجلاس کیسے ہوتا ہے، بلاول کی دھمکی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر اسپیکر نے پیر تک تحریک عدم اعتماد پیش نہ کی تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے اور دیکھیں گے کہ او آئی سی اجلاس کیسے ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران اکثریت کھو چکا ہے، عمران شکست دیکھ کر غیر جمہوریہ اپنا رہا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتےہیں، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے، کوشش کی جارہی ہے کہ ارکان اپنا ووٹ استعمال نہ کریں، تاثر دیا جارہا ہے وہ نہیں کھیلے گا تو کوئی نہیں کھیلے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتا ہے آئینی بحران پیدا ہو اور تیسری قوت کو موقع ملے، عمران خان نے شکست دیکھ کر غیرجمہوری عمل اختیار کیا، حکومت طاقت کے استعمال پر اتر آئی، پہلے پارلیمان پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئیں مقابلہ کریں، عمران نیازی زندگی بھر کھلاڑی رہے، آخرمیں بال ٹیمپرنگ نہ کریں، ہم ذمہ داری کے ساتھ آج تک چل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے آئینی بحران پیدا ہو۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اسپیکر نے غیر جمہوری سوچ اپنائی تو ساری اپوزیشن کو مناؤں گا، اسپیکر پیر تک عدم اعتماد نہ لائے تو ایوان میں دھرنا دیں گے، دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتے ہیں۔بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جلسوں میں جو زبان استعمال کی جارہی سیاسی شخصیت ایسی زبان استعمال نہیں کرسکتا۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پہلے پارلیمان پر لاجز میں حملہ ہوا، پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کر کے وفاق پر حملہ کیا، عمران خان دھمکی دے رہا کہ کھیلتا نہ کھیلنے دوں گا، کوشش کررہا کہ کسی امن امان خراب کر کے تیسری قوتوں کو موقع دے رہا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اسپورٹس مین سپیرٹ دیکھائے، گھر چلا جائے، اسپیکر کا کردار تاریخ میں لکھا جائے گا، اسپیکر قانون آئین توڑنے کا اعلیٰ کار بن رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم روز اول سے قومی مجرم کے مقابلے میں میدان میں کھڑے ہیں، آج منزل آن پہنچی ہے کہ نااہل حکمران کیفردار تک پہنچیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ شکست ان کا مقدر ہوچکی وہ گھر جائیں گے، جلسوں میں جو زبان استعمال کی جارہی سیاسی شخصیت ایسی زبان استعمال نہیں کرسکتا، شرافت قریب سے بھی گزری ہوتی تو یہ زبان آج استعمال نہ کرتے۔انہوں نے کہا کہ ممبران سے پہلے کہتا ہے کہ جہاں مرضی ووٹ دیں، اب وہ ووٹ ان کے مخالف استعمال کر رہے تو ان کو گالیاں دے رہا، ہم یہ جنگ جیت چکے تھوڑا وقت باقی ہے انجام تک پہنچائیں گے۔اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے جمہوریت کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز سندھ ہاؤس میں ایک  افسوس ناک واقعہ پیش آیا، سندھ ہاؤس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہاؤس پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے، کہا جارہا ہے کہ ممبران کو 10 لوگوں کے درمیان سے گزرنا پڑے گا، عمران خان نے جمہوریت کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے اقتدار کیلئے تمام حدیں عبور کرنے کیلئے تیار ہے، ہارس ٹریڈنگ کے الزامات اتحادیوں سمیت سب نے مسترد کیا، آئی جی، کمشنر، ڈی سی کو وارننگ دیتا ہوں کہ رکاوٹ نہ بنیں، یہ کہتے ہارس ٹریڈنگ ہورہی سینٹ میں کس نے ہارس ٹریڈنگ کی؟شہباز شریف نے کہا کہ آج موقع آگیا کہ ہم ڈھنکے کی چوٹ پر کہنا چاہتے آئین و قانون پر یقین رکھتے، ووٹ کا حق استعمال ہونے کی اجازت ہونی چاہیے، اسپیکر کو وارننگ کرنا چاہتا ہوں کہ اسپیکر کا آپ رول ادا کریں، عمران خان کا اسپیکر اعلیٰ کار نہ بنیں۔ Adsence Ads 300X250

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button