چینی باشندوں کے قاتلوں کو نشان عبرت بنائیں گے: وزیراعظم شہباز شریف

کراچی یونیورسٹی میں چینی شہریوں کی ہلاکت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’واقعے کی تیزی سے تحقیقات کر کے مجرموں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔‘منگل کو چینی سفارت خانے کے دورے کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے چین کی ناظم الامور پھینگ چنگ زو سے ملاقات کی اور خود کش حملے میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے چینی صدر شی جن پنگ کے لیے خصوصی تعزیتی پیغام بھی تحریر کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اپنے آئرن بردر پر وحشیانہ حملے پر پوری پاکستانی قوم صدمے اور غم کی حالت میں ہے۔‘’پورا پاکستان چین کی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور افسوس کرتا ہے۔‘شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں چینی باشندوں اور اداروں کی سکیورٹی فول پروف بنانے کا حکم دے دیا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی کے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہیں، ہم نے پاکستانی سرزمین سے ہر قسم کی دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے کا تہیہ کر رکھا ہے۔‘وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور چین کے درمیان آہنی تعلقات پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ان عظیم دو طرفہ تعلقات کو متاثر نہیں ہونے دیں گے۔‘’چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے۔‘وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو بدھ کو کراچی پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔جامعہ کراچی کے چینی اساتذہ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ پاک-چین اسٹریٹیجیک اشتراک کو نقصان پہنچانے کے خصوصی ایجنڈے کے تحت کیا گیا ایک اور حملہ ہے۔ ہمیں اپنے دشمن کے اس بیرونی حمایت یافتہ ایجنڈے کو بہرصورت خاک میں ملانا ہے۔

— Imran Khan (@ImranKhanPTI) April 26, 2022

چینی اساتذہ پر حملہ پاک چین سٹریٹجک اشتراک کو نقصان پہنچانے کے ایجنڈے کا حصہ ہے: عمران خانسابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جامعہ کراچی کے چینی اساتذہ پر دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کی ہے۔منگل کو اپنے ٹوئٹر بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاک چین سٹریٹجک اشتراک کو نقصان پہنچانے کے خصوصی ایجنڈے کے تحت کیا گیا ایک اور حملہ ہے۔’’ہمیں اپنے دشمن کے اس بیرونی حمایت یافتہ ایجنڈے کو ہر صورت خاک میں ملانا ہے۔‘

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

one × one =

Back to top button