ڈرامہ میرے ہم سفر میں ذہنی دباؤ نے ہالہ کے بچے کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا، حمل کے دوران ذہنی دباؤ بچے پر کیا اثرات ڈالتے ہیں جانیں

آج کل ڈرامہ میرے ہم سفر کے ہر طرف چرچے ہیں اس ڈرامے کی کہانی انتہائی موثر ہے اور ایک لڑکی کی شادی سے قبل سے لے کر شادی کے بعد ہونے والے مسائل کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے ۔ اس ڈرامے کی مقبولیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ ڈرامہ ہر عورت اور لڑکی کو کسی نہ کسی حد تک اپنی ہی کہانی محسوس ہوتی ہے ۔

ڈرامہ میرے ہم سفر کی حالیہ قسط اور ایک اہم مسلہ

حالیہ قسط انتہائی موثر کہانی کے سبب دلوں کو متاثر کر گئي خاص طور پر حاملہ ہالہ پر شدید ذہنی دباؤ نے جو اثرات کیۓ وہ اس قسط کا سب سے اہم پہلو تھا ۔ شوہر کی بے اعتنائی، ساس کی ریشہ دوانیاں اور میکے کے غم نے ہالہ کو تو ذہنی دباؤ کا شکار کیا ہی مگر اس کے رحم میں موجود بچے کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ۔

حاملہ عورت اور ذہنی دباؤ کے اثرات

وہ عورت انتہائی خوش قسمت ہوتی ہے جس کا حمل ہر قسم کے بیرونی دباؤ سے پاک ہوتا ہے ۔ کیوں کہ حمل بزات خود ایک بڑا مرحلہ ہوتا ہے ہارمون اور جسمانی تبدیلیوں کے سبب ایک عورت اس وقت خصوصی توجہ اور پیار محبت کی مستحق ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ان حالات میں شوہر کا بڑا رویہ سسرال والوں کے ظلم حاملہ عورت کو ذہنی دباؤ کا شکار کریں تو پیدا ہونے والا بچہ کن مسائل کا سامنا کر سکتا ہے اس کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گۓ

حاملہ عورت کا ذہنی دباؤ اور بچے کے مسائل

جیسا کہ ڈرامے میں بتایا گیا کہ حمل کے دوران مان پر ہونے والے ذہنی دباؤ نے بچے کی نشو نما کو متاثر کیا ۔ جس کی وجہ سے اس کی زندگی خطرے میں پڑ گئي تاہم ایسے حالات میں اگر بچہ پیدا ہو بھی جاۓ تو وہ صحت کے جن مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہو سکتے ہیں

1: اے ڈی ایچ ڈی

اس مسلے کا شکار ایک مستقل بے چینی کا شکار ہوتا ہے ۔ اس کے لیۓ کسی ایک جگہ پر بیٹھنا محال ہوتا ہے ۔ دیر سے بولنا شروع کرتا ہے اور کسی کی بات پر دھیان نہیں دیتا ہے

2: برتاؤ میں خرابی

اس مسلے کا شکار بچہ بہت جزباتی ہوتا ہے جلد غصہ میں آجاتا ہے کسی کی بات نہیں مانتا ہے اور دوسرے بچوں کے ساتھ مار پیٹ کرتا ہے سخت ضدی ہوتا ہے

3: آٹزم

ایسا بچہ ایک جگہ پر بیٹھا رہتا ہے ۔ کسی کی بات کا جواب نہیں دیتا ہے اور نہ ہی آنکھیں ملا کر کسی سے بات کرتا ہے صرف اپنی مرضی کے کام کرتا ہے ۔

4: دماغی نشو نما میں کمی

ایسے بچے اپنی طبعی عمر کے حساب سے ذہنی طور پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ یہ بچے جسمانی طور پر اگر بڑھ بھی رہے ہوں تو ان کا ذہن نہیں بڑھتا ہے

5: قوت مدافعت کی کمزوری

ایسے بچے جسمانی طور پر بھی کمزور ہوتے ہیں بار بار کسی نہ کسی انفیکشن کا شکار ہو کر بیمار پڑ جاتے ہیں کسی بھی بیماری سے مقابلہ کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہوتی ہے
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی آئندہ نسل ان مسائل سے محفوظ رہے تو اس کے لیۓ ضروری ہے کہ سب سے پہلے حاملہ ماں کو خوش رکھیں ۔ اس کی خوراک کا خیال رکھیں اس کو ذہنی سکون فراہم کریں اوراس کو ذہنی دباؤ سے بچائيں

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

7 − 7 =

Back to top button