کراچی: بارش کے بعد سڑکیں، گلیاں اور محلے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے

کراچی: شہر قائد میں ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد مختلف علاقوں میں سڑکیں، گلیاں اور محلے تالاب کا منظر پیش کرنے لگے ہیں جب کہ بجلی کی بندش نے شہریوں کی اذیت و تکلیف میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق کراچی میں ایک مرتبہ پھر ہونے والی موسلا دھار بارش نے شہریوں کو سخت اذیت میں مبتلا کردیا ہے، درجنوں گاڑیاں سڑکوں پہ بند ہو گئیں جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی جب کہ موٹر سائیکل سواروں کی بڑی تعداد فٹ پاتھوں کو سڑک سمجھ کر منزل پر پہنچنے کی کوشش کرتی دکھائی دی۔

گزشتہ بارشوں کی طرح اس مرتبہ بھی سندھ ہائی کورٹ کے مرکزی گیٹ کے سامنے تالاب بن گیا، خیابان بحریہ پانی سے لبالب بھر گئی، ڈیفنس لائبریری روڈ پانی میں ڈوب گئی، کھڈا مارکیٹ کے مقام پر برساتی پانی جمع ہوگیا، پی ای سی ایچ ایس میں درخت بارش کی وجہ سے گرگیا۔

ہم نیوز کے مطابق شہر کی کئی سڑکوں پر جمع ہونے والے برساتی پانی کی وجہ سے فٹ پاتھوں کا نشان تک مٹ گیا تھا جو حادثات کا بھی سبب بنا جب کہ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ اسکول بچوں کی وین بھی برسات میں کھڑی دکھائی دی۔

شہر میں ہونے والی موسلا دھار بارش کی وجہ سے مائی کولاچی روڈ پر پانی جمع ہو گیا، شارع فیصل پر واقع وائرلیس گیٹ کے اطراف آمد و رفت تقریباً معطل ہو گئی، شہری گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو دھکے لگاتے رہے، گرومندر کے اطراف واقع سڑکیں پانی میں ڈوبی رہیں، حیدری سے فائیو اسٹار چورنگی جانے والی سڑک دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

ہم نیوز کے مطابق رات ہونے کے باوجود شہر کی صورتحال میں کوئی واضح تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی ہے، حقانی چوک بدستور پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور نیوچالی کے مکینوں کو بھی سخت دشواری کا سامنا ہے جب کہ شاہ فیصل کالونی کے حالات بھی مختلف نہیں ہیں۔

کراچی میں تیز بارشوں کی پیشن گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ نے کل ہونے والے پرچے ملتوی کردیے ہیں۔

بھارت و اسرائیل سے ملنے والی فنڈنگ پر جے آئی ٹی بنائی جائے، عمران خان جھوٹا، کرپٹ اور بے ایمان ثابت ہوا، سعید غنی

ہم نیوز نے اس سلسلے میں ترجمان بورڈ کے حوالے سے بتایا ہے کہ آرٹس ریگولر، آرٹس پرائیوٹ اور خصوصی امیدواروں کے پرچے ملتوی کیے گئے ہیں جب کہ تمام ملتوی شدہ پرچے اب 22 اگست کو لیے جائیں گے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

1 × five =

Back to top button