کرپٹو کرنسی مائننگ کرنے والے سینکڑوں افراد گرفتار

دنیا بھرمیں کرپٹو کرنسی مائننگ دولت بنانےکا آسان طریقہ بنتی جا رہی ہے۔

اس مائننگ کے نتیجے میں استعمال ہونے والی توانائی اورخارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ عالمی سطح پرماحولیاتی تحفظات میں اضافہ کررہے ہیں۔بٹ کوائن مائننگ دنیا بھرمیں استعمال ہونے والی بجلی کا 0.5 فیصد صرف کرتی ہے یہ امریکی ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل کے برقی استعمال سے 7 گنا زائد ہے۔ترقی پذیرممالک میں توبجلی کی چوری معمول کی بات ہے، لیکن کرپٹوکرنسی مائننگ نے ملائیشیا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی بجلی چوری کی شرح میں اضافہ کردیا ہے۔کرپٹوکرنسی مائننگ میں توانائی کا بے تحاشا استعمال دنیا بھرکی بہت سی حکومتوں کے لیے درد سربنا ہوا ہے۔ملائیشین حکام کی جانب سے جاری ہونے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ دوسالوں میں 627 افراد کوبجلی چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جوکرپٹوکرنسی مائننگ کے لیے بجلی کی چوری کررہے تھے۔بٹ کوائن مائننگ کے لیے بجلی چوری کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی میں تقریبا 7 کروڑ ملائیشین رنگیٹ مالیت کے آلات بھی ضبط کیے گئے۔اس حوالے سے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشیا میں کرپٹوکرنسی کی مائننگ کرنا غیرقانونی نہیں ہے لیکن بجلی کی چوری کرنا ایک سنگین جرم ہے جسے کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا۔ اوربٹ کوائن مائنرزکی جانب سے بجلی کا بھاری استعمال اورچوری غیرمتوقع لوڈ شیڈنگ کا سبب بنتی ہے۔کرپٹوکرنسی مائننگ ایک ایسا پیچیدہ عمل ہے جس میں سپرکمپیوٹرزکی مدد سےایک پیچیدہ الگورتھم کوحل کیا جاتاہے۔ ان سپرکمپیوٹرزاوردیگرآلات کوچلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکارہوتی ہے۔توانائی کے بجران سے بچنے کے لیے ملائیشین حکام نے بٹ کوائن کی غیر قانونی مائننگ کرنے والے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کررکھا ہے۔اس ضمن میں ملائیشیاکی الیکٹرک یوٹیلیٹی کمپنی ’ ٹی این بی‘ کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کارروائیاں کرتی ہے۔ Adsence Ads 300X250

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

6 − 5 =

Back to top button