کوپ 26: ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملک معاہدے پر متفق کیوں نہیں ہو رہے؟

اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 26 برطانیہ کی میزبانی میں گلاسگو میں جاری ہے۔ رات بھر مشاورت اور مذاکرات کا طویل سیشن جاری رہا جس کے بعد ہفتے کے روز میزبان ملک نے ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ممکنہ معاہدے کا تیسرا مسودہ جاری کیا ہے لیکن مذاکرات اب تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔

نئے مسودے میں کیا شامل ہے؟

نئے مسودے میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک اور بڑے صنعتی ممالک کے مطالبوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں تیل اور دیگر قدرتی ایندھن برآمد کرنے والے ممالک کے خدشات کو بھی کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ممالک کوئلے اور ماحولیات کے لیے نقصان دہ توانائی کے دیگر ذرائع (فوسل فیول) کو ترک کرنے کے لیے اپنی کوششوں میں تیزی پیدا کریں۔

مسودے میں ماحولیاتی مسائل اور معیشت سے متعلق پیدا ہونے والے اختلافات کو کم کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ بظاہر ماحولیاتی کانفرنس پر معیشت کا موضوع حاوی دکھائی دیا ہے۔

نئے منصوبے کے تحت امیر ممالک ایسے اداروں کو مالی معاونت فراہم کریں گے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بقا کے خطرے سے دوچار ممالک کو بچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تاہم امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے مزاحمت کے بعد مسودے سے ایسے الفاظ نکال دیے گئے ہیں جن میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی ‘تباہی اور نقصانات‘ کے ازالے کے لیے مخصوص مالی ذمہ داریوں کا ذکر تھا۔ صنعتی دور سے مستفید ہونے والے ترقی یافتہ ممالک کی مالی ذمہ داریوں سے متعلق یہ جملے غریب ممالک کے بنیادی مطالبات میں شامل تھے۔

تاہم نئے مسودے میں لکھا گیا کہ ‘افسوس کے ساتھ یہ بات نوٹ کی جا رہی ہے‘ کہ امیر ممالک نے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ پہلے کیا گیا وعدہ اب تک پورا نہیں کیا کہ وہ سالانہ سو ارب ڈالر کا الگ فنڈ قائم کریں گے اور اب انہوں نے اسے سن 2023 تک موخر کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ مسودے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اقوام عالم ‘منصفانہ منتقلی کی حمایت‘ کریں گی۔ یہ حوالہ دراصل ان ممالک کے فوسل فیول یا ضرر رساں توانائی سے پائیدار توانائی کی جانب منتقلی کے بارے میں ہے جن کی معیشت کا کوئلے اور دیگر فوسل فیول پر بہت زیادہ انحصار ہے۔

مسودے میں اقوام عالم سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اگلے برس کی ماحولیاتی کانفرنس سے متعلق اپنے اہداف کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں۔

اس مسودے کو 200 سے زائد ممالک کی منظوری درکار ہے۔ یہ ممالک سن 2015 کے پیرس معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں جس میں زمین کے درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری کم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

تازہ ترین مسودے میں ماہرین کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت کو کم کر کے 1.5 ڈگری تک لانے کے لیے سن 2030 تک ضرر رساں گیسوں کے اخراج میں 45 فیصد کمی لانا پڑے گی۔

تحفظ ماحولیات کے کارکن ناخوش

سماجی تنظیم آکسفیم سے تعلق رکھنے والی ٹریسی کارٹی نے معاہدے کے مسودے کے بارے میں کہا، ”یہ اب بھی ناکافی ہے۔ گلاسگو میں دنیا کے غریب ترین ممالک کو یکسر نظر انداز کیے جانے کا خطرہ دکھائی دے رہا ہے۔‘‘

گرین پیس انٹرنینشل کی سربراہ جینیفر مورگن نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوسل فیول کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے امریکا اور یورپی یونین کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ”امریکا کو سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی نقصانات کے ازالے کے حوالے سے حمایت فراہم کرنا چاہیے۔ اس معاملے کو امریکا اور یورپی یونین اب نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘‘

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے اقوام عالم کے اب تک کے اقدامات ناکافی ہیں لیکن موجودہ مسودے میں شامل وعدوں پر عمل درآمد درست سمت کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

جرمنی کی ‘لاتعلقی‘ بھی تنقید کی زد میں

دوسری جانب ماہرین اور سماجی کارکنوں نے کوپ 26 کے دوران جرمنی کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ماحولیاتی امور کے ماہر یان کوالزش نے اپنے ایک انٹرویو میں جرمن سیاست دانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ کاروں کی طاقتور صنعت کے مفادات کا تحفظ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‘اِیمیشن فری کاروں‘ کی حمایت کرنے والے اتحاد میں شامل نہ ہو کر برلن حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کاروں کی صنعت کی ضروریات کو ماحولیات پر ترجیح دے رہی ہے۔

ش ح/ع ح (اے پی،اے ایف پی، روئٹرز)

Leave a Reply

Your email address will not be published.

2 − 2 =

Back to top button