کینسر ایک خطرناک بیماری ہے، لیکن خُدا نے مجھے اس کے لیے چُن لیا ۔۔ کینسر میں مبتلا خاتون جنہوں نے اپنی بیماری کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنایا

کینسر ایک ایسا مرض ہے جس سے کوئی بھی انسان نہ صرف جسمانی طور پر کمزور کرتا ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی مفلوج بنا دیتا ہے۔ ہر کوئی آپ کو بیمار ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ جب کیموتھراپی کا وقت آتا ہے تو کوئی بھی انسان خوف سے کپکپا جاتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے شاید کیونکہ جیتا جاگتا انسان کینسر اور اس کے علاج کے تکلیف دہ عمل سے گزر کر خود کو
کم سے کم تر محسوس کرنے لگتا ہے۔ لیکن اس دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو اپنی بیماری کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنا کر آگے بڑھتے ہیں اور ہنس مسکرا کر زندگی جینے کے راستے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک پاکستانی بلاگر، لکھاری اور خوبصورت آرٹسٹ شیرین گھیبہ نجیب Shireen Gheba ہیں۔

ان کو دیکھ کر شاید ہی کوئی یہ خیال کرسکتا ہے کہ ان کو کینسر تھا۔ یہ ہر وقت مسکراتی ہیں۔ جب بھی کوئی بات کرتی ہیں اتنے دھیمے اور خوش لہجے میں کرتی ہیں کہ سننے والا بھی سحر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک لکھاری ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کس قدر صاف دل کی مالک ہیں۔ ان کے سادہ سے جملے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔ ان کے پڑھنے والے قارعین ہمیشہ سے ہی ان کے محبت بھرنے انداز کو پسند کرتے آئے ہیں۔

شیرین گھیبہ نجیب اپنی ایک تحریر میں لکھتی ہیں کہ:

کینسر ایک خطرناک مرض ہے۔ لیکن اگر خُدا نے مجھے اس بیماری کے لئے منتخب کیا ہے تو یقیناً میرے لئے کچھ بہتر سوچ کر کیا ہوگا۔ میں پہلے خوفزدہ ہوتی تھی لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی ہوں۔ میری سوچ میں بھی تبدیلی آئی ہے۔
اللہ جانتا تھا کہ میں اس قابل ہوں کہ یہ تکلیف سہہ سکوں۔
آج، مجھے یقین ہے، میں پہلے سے زیادہ حساس، روشن خیال، اور باخبر انسان بن گئی ہوں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کینسر کے اس تجربے سے مجھے مزید کتنا سیکھنے ملے گا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ ہمیں اس بیماری کو سمجھنے کی کتنی ضرورت ہے۔ کینسر صرف ایک، دو، تین اور چار مراحل کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ حد سے زیادہ سنگین ہے۔ اس کا مقابلہ صرف دوائیوں، دوائیوں، علاج سے ہی نہیں، بلکہ آپ کی اپنی روح، آپ کی مرضی، آپ کی سوچ کی طاقت اور ایمان سے ہے۔
میں نے اس تجربے سے بہت سیکھا ہے۔ اب جب کوئی شخص کہتا ہے، ‘کیمو’، میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ اس لفظ کا کیا مطلب ہے!
اور یہ کس حد تک ذہنی و جسمانی اذیت ہے۔ لیکن میں بخوشی اپنی بیماری کے لئے کام کیا ہے۔

شیرین مزید لکھتی ہیں کہ:

زندگی میں اچھے اور برے لوگوں کے ساتھ رہنے کا تجربہ بھی الگ ہے۔
آپ اپنی زندگی میں کچھ لوگوں کے ساتھ اور ان کے بغیر رہنے کی عادت ڈال سکتے ہیں۔ کیونکہ پچھلی یادوں کے ساتھ اچھی یادیں بنانا اور آگے بڑھنا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ میرے اطراف میں بہت اچھے لوگ ہیں، میرے دوست، میری والدہ، میرے گھر والے۔ یہ سب میری طاقت ہیں۔ کینسر کو ایک بیماری کی طرح سمجھا جائے، اس کو ذہن پر سوار نہ کیا جائے۔ عورت کی جنس اپنے آپ میں کئی رنگوں کا ایک مجموعہ ہے جس کو چڑیا کی طرح اڑنے دیا جائے۔ یہ کسی بھی عورت کے لیے مضبوط بننے کا ایک اہم سفر ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہمیں ہر دکھ اور تکلیف کے ساتھ اپنی یادوں پر کنٹرول رکھنا چاہیے۔ ہم کیا یاد کر رہے ہیں، کس کو یاد کر رہے ہیں، ہمارے ذہن میں کس بات کا خیال آ رہا ہے۔ اس بات پر دھیان دینا چاہیے۔

انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر ہسپتال کے بستر پر بیٹھ کر کام کرنے کی ایک تصویر شیئر کی۔ جس پر کمنٹ سیکشن میں ان کے چاہنے والے قریبی دوست اور فینز نے ان کی طاقت اور ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ اس تکلیف میں بھی خود کو پرسکون رکھتی ہیں اور ہسپتال جا کر بھی ہاپنے کام پر دھیان دے رہی ہیں یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔

شیرین مضنفہ بھی ہیں۔ انہوں نے اب تک تقریباً 6 کتابیں بھی تحریر کی ہیں اور 12 سال کی عمر سے پینٹنگ کرتی ہیں۔ یہ فلاحی کاموں میں بھی اپنا وقت سروو کرتی ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں سے پاکستان کی مثبت امیج کو نکھارا ہے، دنیا کے سامنے دکھایا ہے۔ شیریں اپنے انٹرویو میں بتاتی ہیں کہ مجھے ہر طرح کے کھانے پسند ہیں۔ سنگاپورین رائس سب سے زیادہ پسند ہیں۔ سورۃ البقرۃ کی آخری آیت ہے کہ اللہ انسان کو اس کی برداشت سے زیادہ نہیں دیتا۔” بس میرا اللہ میرے لیے راستے بناتا گیا اور یہ ایک معجزہ ہے کہ 6 ماہ میں صحتیاب ہوگئی۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

15 − eleven =

Back to top button