گھر میں دہی موجود نہیں، پیاس کی شدت کم کرنے کے لئے ایسا کیا کھائیں کہ سارادن پیاس نہ لگے

۔ آج کل شدید گرمی ہے اور رمضان کا مہینہ ہے ایسے میں ہر ایک اس بات کے لئے پریشان ہوتا ہے کہ ایسی کیا چیز کھائیں کہ سارا دن پیاس نہ ستائے۔عموماً لوگ اس کے لئے دہی کا استعمال بھی کرتے ہیں ،لیکن اگر دہی موجود نہ ہو تو ایسا کیا کریں کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے، تو ایسے میں گرمیوں کا سستا اور مقبول پھل خربوزہ تو ہر گھر میں موجود ہی ہوتا ہے۔ خر بوزے کو عام طور پر افطار میں کھایا جاتا ہے لیکن اگر سحری کے وقت ایک پیالہ خربوزہ کھا لیا جائے تو اس سے پیاس کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی مد نظر رہے کہ خربوزہ خالی پیٹ بالکل نہ کھائیں۔ بلکہ سحری کے آخر میں کھائیں۔

ٹھنڈا میٹھا فرحت بخش خربوزہ افطار میں جب دسترخوان کی زینت بنتا ہے تو افطار کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔

یہ خوش ذائقہ اور میٹھا رسیلا پھل ہے اس میں پانی کی وافر مقدار موجود ہے۔ جو کہ ٹھنڈک کا احساس دلاتی ہے۔

اس سے سینے کی جلن اور تیزابیت بھی دور ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گردوں کی صفائی کے لئے بھی یہ بہترین پھل ہے۔

خربوزہ ان لوگوں کے لیے ایک آئیڈیل فروٹ ہے جو کہ اپنا وزن گھٹانے کے خواہش مند ہوتے ہیں کیونکہ اس میں سوڈیم کی انتہائی کم مقدار ہوتی ہے۔

چکنائی بالکل نہیں ہوتی ، یہ کولیسٹرول فری بھی ہے اور اس میں کیلوریز کی بھی انتہائی کم مقدار ہوتی ہے لہٰذا اسے کھانے سے بھوک کا احساس ختم ہوجاتا ہے اور پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں پانی کی وافرمقدار پائی جاتی ہے ۔

اس میں انتہائی کم کیلوریز ہوتی ہیں یعنی ایک کپ خربوزے میں صرف64 کیلوریز ہوتی ہیں۔

یہ وٹامنز اور منزلز سے بھر پور ہوتا ہے اس میں چکنائی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

خربوزے میں کیلشیم 15ملی گرام ، فاسفورس 25 ملی گرام، وٹامن سی 34 ملی گرام، وٹامن اے 640 ملی گرام، پائی جاتی ہے۔ خربوزہ خون میں کلوٹ بننے جوکہ ہارٹ ٹیک کا سبب بنتا ہے کے عمل کوروکتا ہے۔ یہ کھیرے اور تربوز کی بایولوجیکل فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

17 − 15 =

Back to top button