یورپی یونین: تیرہ سال بعد کاروں سے زہریلی گیسوں کا اخراج صفر

ستائیس رکنی یورپی یونین کے وزرائے ماحولیات نے ایک ایسے نئے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت سن 2035ء تک کاروں کو مکمل طور پر ضرر رساں گیسوں سے پاک بنا دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔

جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ”کونسل نے نئی گاڑیوں کے لیے سن 2035ء  تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 100 فیصد تک کمی کے ہدف پر اتفاق کر لیا ہے۔‘‘ اس معاہدے کا بنیادی مقصد سن 2035 تک انٹرنل کمبسشن انجن والی کسی بھی نئی کار کی فروخت پر پابندی عائد کرنا ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

ابھی اس منصوبے کی منظوری یورپی پارلیمان سے ہونا باقی ہے لیکن یورپی پارلیمان بھی کمبسشن انجن والی گاڑیوں کی فروخت پر مکمل پابندی کے حق میں ہے۔ یورپی یونین سن 2050 تک ‘کلائمیٹ نیوٹرل‘ ہونے کا ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ستائیس وزرائے ماحولیات نے اُن پانچ قوانین کے حوالے سے بھی اتفاق کیا ہے، جو گزشتہ سال یورپی کمیشن کی طرف سے تجویز کیے گئے تھے۔یورپی یونین کلائمیٹ پالیسی کے سربراہ فرانس ٹیمرمانز کے مطابق، ”ماحولیاتی تبدیلیوں کا بحران اور اس کے نتائج واضح ہیں، اس لیے یہ پالیسی ناگزیر ہے۔‘‘جرمنی میں اس پالیسی کے خلاف مزاحمت

جرمنی کی مخلوط حکومت کی جانب سے اس منصوبے کی حمایت تو کی گئی ہے لیکن اس شرط پر کہ ‘کاربن ڈائی آکسائیڈ نیوٹرل ایندھن‘ پر چلنے والی نئی کاروں کی فروخت 2035ء کے بعد بھی جاری رہے گی۔ کمبسشن انجن والی گاڑیوں کی فروخت پر ممکنہ پابندی پر بحث کو خصوصاﹰ جرمنی میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ جرمنی یورپی یونین میں کاروں کی پیداوار کے حوالے سے سرفہرست ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:53 نائجیریا کی الیکٹرک بسیں، کیا پاکستان میں یہ ممکن نہیں؟

جرمنی کی وزیر ماحولیات شٹیفی لیمکے نے کہا، ”یورپی یونین کے رکن ممالک نے اس پالیسی کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیا ہے کہ 2035ء سے صرف وہی گاڑیاں رجسٹر کی جائیں گی، جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج نہیں کریں گی۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ”یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ ہمیں صاف آب و ہوا کے ہدف کو حاصل کرنا چاہیے۔ اس سے گاڑیوں کی صنعت کو نئی منصوبہ بندی کا موقع بھی ملے گا، جس کی اسے اشد ضرورت ہے۔‘‘

سوشل کلائمیٹ فنڈ کا قیام

اس معاہدے کے مطابق  59 بلین  یورو کا ایک ‘سوشل کلائمیٹ فنڈ‘ بھی قائم کیا جائے گا۔ اگر کاربن پالیسی کی وجہ سے مزید ٹیکس لگے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو  کم آمدنی والے شہریوں کو اسی فنڈ سے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

تاہم یورپی ممالک کے مابین اس رقم کو کیسے تقسیم اور خرچ کیا جائے گا؟  اس حوالے سے تمام رکن ممالک اپنی اپنی تجاویز یورپی کمیشن کو پیش کرنے کے اہل ہوں گے۔

یورپی یونین کلائمیٹ پالیسی کے سربراہ فرانس ٹیمرمانز کا مزید کہنا تھا، ”ماحول دوست توانائی کی طرف منتقلی کی سفر سے بلوں میں کمی آئے گی لیکن بہت سے لوگوں کو یہ سفر طے کرنے کے لیے کچھ مدد درکار ہو گی۔‘‘

ر ب / ا ا (روئٹرز، ڈی پی اے)

Source

Leave a Reply

Your email address will not be published.

5 − two =

Back to top button