13.5 ارب سال پُرانے ستاروں کو پہلی بار دیکھنے کی تیاری

آئندہ ہفتے لانچ ہونے والی ٹیلی اسکوپ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اپنے تھا زمین پر موجود کئی سائنس دانوں کی امیدیں بھی لے کر جارہی ہے۔

یہ ٹیلی اسکوپ بِگ بینگ کے بعد پہلی بار کائنات کے ان ستاروں کی تصاویر لے گی جو آج تک کبھی نہیں دیکھے گئے ہیں۔جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ 24 دسمبر کو جنوبی امریکا میں قائم فرینگ گیانا کے خلائی اڈے سے خلاء کے لیے روانہ ہوگی۔بس کے سائز کی یہ ٹیلی اسکوپ جِسے راکٹ کی ناک پر لگا یا گیا ہے، جب اپنے حتمی مقام یعنی زمین سے 15 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر پہنچے گی تو کُھل کر ایک ٹینس کورٹ کے برابر ہو جائے گی۔ زمین سے ٹیلی اسکوپ کا یہ فاصلہ، زمین اور چاند کے درمیان فاصلے سے پانچ یا چھ گُنا زیادہ ہوگا۔یہ ٹیلی اسکوپ اتنی ماہرانہ انداز میں بنائی گئی ہے کہ 13.5 ارب سال پُرانے کائنات کے پہلے ستاروں کی تصویر کھینچنے کی قابلیت رکھتی ہے۔ یہ عرصہ وہ ہے جو ہم تک انستاروں کی روشنی پہنچنے میں لگا ہے۔سینٹ میری یونیورسٹی کے پروفیسر سیوِکی کا کہنا تھا کہ جب بِگ بینگ کے بعد کائنات بنی تو کوئی ستارہ، کوئی کہکشاں، کوئی روشنی نہیں تھی۔ یہ ایک بہت بہت اندھیری جگہ تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان ستاروں کی توقع کر رہے ہیں جو شروع کی کہکشاؤں میں روشن ہوئے۔ اس ہی لیے جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو بنایا گیا ہے کہ روشنی کے اس سب سے پہلے ذریعے کو تلاش کیا جاسکے۔ Square Adsence 300X250

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button